Posts

Showing posts from January, 2018

نماز کیا ہے ؟

Image
نماز  (صلوٰۃ) صلوٰۃ اس عبادت کا نام ہے جس میں اللہ کی بڑائی، تعظیم اور اس کی ربوبیت و حاکمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے، صلوٰۃ ہر پیغمبر اور اس کی امت پر فرض کی گئی ہے۔ صلوٰۃ قائم کر کے بندہ اللہ سے قریب ہو جاتا ہے۔ صلوٰۃ فواحشات اور منکرات سے روکتی ہے۔ صلوٰۃ دراصل اللہ کے لئے ذہنی مرکزیت کے حصول کا یقینی ذریعہ ہے۔ صلوٰۃ میں ذہنی یکسوئی ( Concentration ) حاصل ہو جاتی ہے۔  نماز کا مفہوم اور مراقبہ  صلوٰۃ کے معنی، مفہوم اور نماز کے اعمال پر تفکر کرنے سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ صلوٰۃ دراصل ذہنی صلاحیت ( Concentration ) کو بحال کر دیتی ہے۔ انسان ذہنی یکسوئی کے ساتھ شعوری کیفیات سے نکل کر لاشعوری کیفیات میں داخل ہو جاتا ہے۔ مراقبہ کا مفہوم بھی یہی ہے کہ بندہ ہر طرف سے ذہن ہٹا کر، شعوری دنیا سے نکل کر لاشعوری دنیا غیب کی دنیا سے آشنا ہو جائے۔ صلوٰۃ (نماز) میں یکسوئی حاصل کرنے اور اللہ سے تعلق قائم کرنے اور اللہ کے سامنے سجدۂ حضوری کرنے کے لئے یہ مراقبہ کرایا جاتا ہے۔ صلوٰۃ قائم کرنے سے پہلے آرام دہ نشست میں قبلہ رخ بیٹھ کر تین مرتبہ درود شریف، تین بار کلمہ شہادت ...

نماز کے طبی اثرات

Image
*فجر* : نماز فجر کے وقت سوتے رہنے سے معاشرتی ہم آہنگی پر اثر پڑتا ہے، کیونکہ اجسام کائنات کی نیلگی طاقت سے محروم ہو جاتے ہیں- رزق میں کمی اور بےبرکتی آجاتی ہے۔ چہرا بے رونق ہو جاتا ہے۔  لہذا مسلسل فجر قضا پڑھنے والا شخص بھی انہی لوگوں میں شامل ہے۔ *ظہر*: وہ لوگ جو مسلسل نماز ظہر چھوڑتے ہیں وہ بد مزاجی اور بدہضمی سے دوچار ہوتے ہیں. اس وقت کائنات زرد ہو جاتی ہے اور معدہ اور نظامِ انہظام پر اثر انداز ہوتی ہے-  روزی تنگ کر دی جاتی ہے۔ *عصر*: اکثر نماز عصر چھوڑنے والوں کی تخلیقی صلاحیتیں کم ہو جاتی ہیں، اور عصر کے وقت سونے والوں کا زہن کند ہو جاتا ہے اور اولاد بھی کند زہن پیدا ہوتی ہے-  کائنات اپنا رنگ بدل کر نارنجی ہوجاتی ہے اور یہ پورے نظامِ تولید پر اثر انداز ہوتی ہے- *مغرب*: مغرب کے وقت سورج کی شعاعیں سرخ ہو جاتی ہیں- جنات اور ابلیس کی طاقت عروج پر ہوتی ہے- سب کام چھوڑ کر پہلے مغرب کی نماز ادا کرنی چاہیئے-  اس وقت سونے والوں کی کم اولاد ہوتی ہے یا ہوتی ہی نہیں اور اگر ہو جاے تو نافرمان ہوتی ہے۔ *عشاء*: نماز عشاء چھوڑنے والے ہمیشہ پریشان رہتے ہیں...

نماز فجر کے بیش بہا فوائد

Image

پوری امت کے مطلع کا ایک ہی چاند ہے

Image
  اتوار, جولائی 19, 2015    اسلامی ,  اوریا مقبول جان ,  عید    3 comments پوری امت کے مطلع کا ایک ہی چاند ہے کیا کبھی کسی نے یہ تصور کیا ہے کہ جو امت صرف چندسکینڈ کے وقفے سے بلکہ بعض اوقات تو براہِ راست عرفات میںدیے جانے والا خطبہ سنے، لندن، سڈنی یا دبئی میں ہونے والا میچ دیکھ لے ، کسی بھی ملک کے کسی شہر میں ہونے والے پولیس مقابلے کو دیکھے اور اس پر یقین بھی کرے، گیارہ ستمبرکو گھنٹوں ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے گرنے کا منظر ایسے دیکھے جیسے وہ ان کے سامنے برپا ہے، لیکن اگرآپ اس امت کے اربابِ اختیارسے لے کر علمائے کرام سے پوچھیں کہ یہ پوری امت دنیا بھر میں ایک ساتھ چاند کیوں نہیں دیکھ سکتی تو آپ کو بھانت بھانت کی بولیاں سنائی دینے لگیں گی۔ سب سے پہلی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ زمینی حقائق میں قومی ریاست سب سے بڑی حقیقت ہے اور اس قومی ریاست کی حکومت ہی مسلمانوں کا ایک نظمِ اجتماعی ہے اور اس نظم اجتماعی کے تحت ہر ملک کی ایک رویتِ ہلال کمیٹی ہے۔ یعنی 1920 کے آس پاس عالمی طاقتوں نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو جس کمال مہار...